Tuesday, November 29, 2022
HomeInvestigative Columnsپاکستان اسرائیل کو کیوں تسلیم نہیں کر رہا؟- ابو موسیٰ

پاکستان اسرائیل کو کیوں تسلیم نہیں کر رہا؟- ابو موسیٰ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡیَہُوۡدَ وَ النَّصٰرٰۤی اَوۡلِیَآءَ ۘ ؔ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمۡ فَاِنَّہٗ مِنۡہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ
O you who have believed, do not take the Jews and the Christians as allies. They are [in fact] allies of one another. And whoever is an ally to them among you – then indeed, he is [one] of them. Indeed, Allah guides not the wrongdoing people.

اے ایمان والو! تم یہود و نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہی میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالٰی ہرگز راہ راست نہیں دکھاتا ۔
سورہ المائدہ(51)

نظریاتی پاکستانی قوم کا ایمان اتنا بھی کمزور نہیں کہ وہ اسرائیل جیسی غاصب صہیونی حکومت کو تسلیم کرلے
عوامی حلقوں میں پاکستان-اسرائیل تعلقات ہمیشہ سے ہی شدید ناپسندیدہ سمجھے جاتے ہیں۔۔۔

حالیہ دنوں میں ناجائز ریاست کے متعلق جو بحث چھڑی ہوئی ہے، اس کے تناظر میں دو ٹوک الفاظ میں بتاتا چلوں کہ پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل فلسطین کی پرانی حثیت مکمل آزادی تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔فل سٹاپ

گزشتہ دنوں سے سوشل میڈیا پر وطن عزیز میں اسرائیل کی ناجائز ریاست کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے،
اور یہ پہلا موقع نہیں ہے، ملک میں ہر تھوڑے عرصے کے بعد یہ مسئلہ سر اٹھاتا رہتا ہے کہ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے چاہیئں یا نہیں؟ خاص طور پر موجودہ حالات میں کہ جب اسلامی دنیا کے اہم ممالک متحدہ عرب امارات اور بحرین اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرکے سفارتی تعلقات استوار کر چکے ہیں اور تعلقات کی پینگیں بڑھانے میں مصروف ہیں۔

پاکستان میں بھی چند اسرائیل اور مغرب نواز یہ تجویز پیش کرتے ہیں کہ اب پاکستان کو بھی کوئی فیصلہ کر لینا چاہیے
لبرل اور مغرب نواز حلقوں کا یہ بھی مؤقف ہے، جو امتِ مسلمہ کو مرحومہ سمجھتے ہوئے اپنے اپنے انفرادی قومی مفادات کو مقدم اور بالاتر قرار دیتے ہیں اور اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل جب کشمیر کے معاملے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے بجائے بھارتی موقف کی تائید کی تب بھی یہی بحث انہی حلقوں کی جانب سے چھیڑی گئی تھی کہ اگر عرب ہمارا ساتھ نہیں دیتے تو ہم کیوں ان کی خاطر اسرائیل کے دشمن بنے ہوئے ہیں
ان عناصر کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی ذاتی نوعیت کے اختلافات نہیں ہیں اور نہ ہی کسی قسم کے سرحدی تنازعات ہیں تو پھر ہم بلاؤجہ اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے کیوں انکاری ہیں۔؟
پاکستان نے اب تک عرب ممالک کی حمایت میں اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے، اب جبکہ اہم ترین عرب ممالک ہی اسرائیل کو تسلیم کرکے سفارتی تعلقات استوار کر رہے ہیں، پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیئے۔۔۔۔
جہاں تک پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے تو اپنے قیام کے وقت سے ہی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ اہم اصول رہا ہے کہ ماسوائے ناجائز ریاست دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کئے جائیں گے، پاکستان شروع دن سے ہی اقوام عالم کے ساتھ پرامن دوستانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے، یہاں تک کہ اپنے ازلی دشمن بھارت کی جانب بھی ہمیشہ دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستانی حکومتوں نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے متعلق سخت مؤقف اپنایا ہے؟ وجہ بہت اہم ہے، جس پر پاکستان کے تمام سیاسی، مذہبی، عوامی اور دیگر حلقے متفق ہیں۔۔۔۔۔

پاکستان کی غالب اکثریت اسرائیلی ریاست کو مسلمان بلکہ انسان دشمن غاصب صیہونی ریاست سمجھتی ہے، جس نے مظلوم فلسطینی مسلمانوں کے حق پر ڈاکہ ڈالتے ہوئے ان کی زمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔۔۔

اسرائیل نواز عناصر پاکستان کے خلاف یہ پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ پاکستان صرف یہود دشمنی میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کرتا، یہ دلیل ایک الزام سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ صہیونی طاقتیں خود یہودیوں کے بھی خلاف ہیں یعنی وہ سوائے صہیونیت باقی تمام انسانوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں

دنیا کی تمام ریاستیں کسی نہ کسی مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت رکھتی ہیں، اگر مذہبی بنیاد پر ہی سفارتی تعلقات استوار کئے جاتے تو شاید پاکستان کسی بھی غیر اسلامی ریاست کو تسلیم نہ کرتا۔۔

اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی واحد وجہ یہی ہے کہ پاکستان اسے ایک غاصب صہیونی ریاست تصور کرتا ہے، اسرائیل کو غاصب سمجھنے کا معاملہ قیام پاکستان کے بعد کا نہیں ہے بلکہ ہمارے اکابرین اور قائدین شروع دن سے ہی اسرائیل کو ایک غاصب ریاست سمجھتے تھے۔۔۔۔
اور بہت کم پاکستانیوں کے علم میں یہ بات ہے کہ 23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور جس میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی، اسی اجلاس میں فلسطین کی آزادی کے بارے میں بھی ایک قرارداد منظور کی گئی تھی۔

اسرائیلی ریاست کا قیام اعلان بالفور 1917ء کے تحت عمل میں لایا گیا تھا، جن دنوں اسرائیلی ریاست کے قیام کی تحریک چل رہی تھی، انہی دنوں متحدہ ہندوستان میں قیام پاکستان کی تحریک زوروں پر تھی، انہی دنوں جب قائداعظم محمد علی جناح برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کی تحریک چلا رہے تھے اور ایک عالمی راہنماء کے طور پر سامنے آچکے تھے، وہ اپنے جلسوں اور تقاریر میں اکثر فلسطینی مسلمانوں کی کھل کر حمایت کرتے تھے۔

قائداعظم اسرائیل کے قیام کے سخت مخالف تھے اور فلسطینی مسلمانوں کو مظلوم سمجھتے تھے، اسرائیلی ریاست کے قیام کی تحریک کے خلاف آل انڈیا مسلم لیگ کے لکھنؤ اجلاس منعقدہ 15 اکتوبر 1937ء کی صدارتی تقریر میں انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تھا کہ فلسطین کے مسئلے نے بھارت کے تمام مسلمانوں کو بری طرح دکھ پہنچایا ہے، مسلم لیگ کی جانب سے 16 اگست 1938ء کو پورے متحدہ ہندوستان میں یوم فلسطین منایا گیا، جس میں عرب مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے سیکڑوں کی تعداد میں مظاہرے اور جلسے کئے گئے۔

جس دور میں فلسطین کی تقسیم کا فیصلہ ہوا، اسی دور میں لاہور میں ایک احتجاجی مظاہرے کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں مفکر پاکستان علامہ اقبال نے بھی شرکت کی تھی، اس موقع پر انہوں نے واضع الفاظ میں مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا، بات صرف مظاہرے اور جلسے جلوس تک محدود نہیں تھی بلکہ قائد اعظم نے فلسطین کے مسلمانوں کے لئے فنڈز جمع کرنے کی مہم بھی شروع کی اور ان کے رہنماؤں کو مسلمانان ہند کی طرف سے علامتی طور پر پانچ سو اسٹرلنگ پونڈ کا ایک بینک ڈرافٹ روانہ کیا۔۔۔۔

قیام پاکستان کے فوراً بعد اکتوبر 1947ء میں قائداعظم نے ایک مرتبہ پھر خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ فلسطین سے ایک عظیم خطرہ اور ناقابل تلافی تنازعہ کھڑا ہو جائے گا، اس کے فوراً بعد ہی پاکستان نے اقوام متحدہ میں پالیسی بیان دیا تھا کہ اس مقدس سرزمین کو صلیب پر لٹکایا جا رہا ہے، آگے چل کر پاکستان کی ہر حکومت نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہ کرنے کے متعلق اپنے دوٹوک اور واضح موقف کا اعادہ کیا، جو پاکستانی عوام کے دلی جذبات کی عکاسی کرتا رہا۔اور بانی پاکستان نے کسی موقعہ پر یہ تک بھی کہا کہ اسرائیل برطانیہ، امریکہ مغرب کی ناجائز اولاد ہے

فروری 1974ء میں لاہور میں اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد ہوئی، اس کانفرنس میں سعودی عرب کے بادشاہ شاہ فیصل اور فلسطین کے رہنماء یاسر عرفات سمیت اس وقت کی اسلامی دنیا کے اہم رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

ان رہنماؤں کی موجودگی میں اس وقت کے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تقریر میں اسرائیل کی مخالفت اور فلسطینیوں کی حمایت میں پُرجوش دلائل پیش کئے، ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تقریر میں واضح طور پر کہا کہ بحیثیت مسلمان ہم دنیا کی کسی بھی قوم سے دشمنی نہیں رکھتے، بحیثیت یہودی ہمیں ان سے کوئی پُرخاش نہیں ہے، لیکن بحیثیت صیہونی ہم ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے منکر ہیں۔۔۔۔۔یہ وہ الفاظ جو میں اوپر بتا چکا ہوں کہ ان کی صہیونیت اور ان کے خطرناک عزائم اور نظریات سب سے بڑا مسلہ ہے

عربوں کی اسرائیل کے خلاف جنگوں میں کسی نہ کسی طرح مدد بھی کی ہے، کہیں فوجی ڈاکٹروں کی شکل میں تو کہیں ایئر فورس کے پائلٹس، اور تو اور بعض عرب ممالک کی افواج کو جدید بنیادوں پر کھڑا کرنے میں بھی کسی نہ کسی حد تک ہماری افواج کا کردار رہا ہے

ان تاریخی حقائق کو مدنظر رکھیں تو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے قائدین اکابرین نے شروع دن سے ہی اسرائیلی ریاست کے قیام کو ناجائز سمجھا ہے اور فلسطینی مسلمانوں کی حمایت نظریاتی بنیاد پر کی ہے کہ انہیں ان کے حق سے ناجائز طور پر محروم رکھا گیا ہے۔

پاکستان نے اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ہمیشہ قبلہ اول اور فلسطین کی آزادی سے مشروط رکھا ہے۔ جو عناصر اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں ہیں، وہ یہ جواز پیش کر رہے ہیں کہ پاکستان نے ہمیشہ عربوں کی حمایت میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
لہٰذا اب جبکہ عرب ممالک ہی اسے تسلیم کرنے جا رہے ہیں تو پاکستان کو بھی اس کے متعلق سوچنا چاہیئے۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ پاکستان کی حمایت فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ہے، پاکستانی مسلمانوں کے دل اپنے قبلہ اول کی آزادی کے لئے دھڑکتے ہیں، جب مظلوم فلسطینی اپنے ملک پر اسرائیلی قبضے کو قبول نہیں کرتے تو پاکستان اسے کیسے قبول کر سکتا ہے ؟؟؟

لگتا ہے کہ حالیہ بحث چھیڑنے کا مقصد یہ ہے کہ عوامی ردعمل کا اندازہ لگایا جاسکے، تاکہ بعد کے حالات کا مقابلہ کرنے اور عوامی ردعمل کو قابو کرنے کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔ اب یہ خدشات کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا،
مندرجہ بالا تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو عسکری طاقت اور پاکستانی عوام کسی بھی دور میں اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں رہے ہیں۔

صہیونیوں نے ہمارے فلسطینی بھائی بہنوں کے گھروں، باغات پر قبضہ کرکے اور انھیں ملک سے بے دخل کرکے اسرائیل کی بنیاد رکھی۔ ان کے قبضے میں مسجدِ اقصیٰ اور قبلہ اول ہیں اور وہاں کے جنونی اور انتہاپسند یہودی آئے دن مسجدِ اقصیٰ کو شہید کرنے کی سازشوں میں مصروفِ عمل ہیں۔
نہ تو ہماری معیشت کا حجم بھارت کی معیشت جتنا ہے اور نہ ہی ہماری مارکیٹ اتنی بڑی ہے کہ اسرائیل کو ہم بھارت سے دور کردیں، جیسے کہ بھارت نے سعودی عرب کو ہم سے دور کیا ہے۔ سعودی عرب کا (چین کی طرح سے) بھارت کے ساتھ کوئی براہ راست جھگڑا بھی نہیں ہے، مگر ان دونوں کی وہاں ہونے والی سرمایہ کاری پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ یہ صرف بھارت کی معیشت اور منڈی کے حجم کا اثر ہے۔ اب اس صورتحال میں اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ہمارے اسرائیل کو تسلیم کر لینے سے وہ بھارت سے دور ہوجائے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔ سعودی عرب، جس کی سیکیورٹی امریکا کے بعد پاکستان کی مرہونِ منت ہے، وہ بھی معاشی معاملات میں ہمیں گھاس نہیں ۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ہمارے موقف کی بنیاد قائداعظم کے مرتب کردہ اصول ہی ہیں۔
نہ ہماری عربوں جیسی مجبوریاں نہیں ہیں کہ ایران ہمیں کھا جائے گا۔ ہمیں اپنی مسلح افواج اور ان کی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے۔ ہمارا ایک اصولی موقف ہے جو بین الاقوامی انسانی و اسلامی اصولوں کے عین مطابق ہے
عالمِ اسلام میں اسرائیل کے حوالے سے دو گروپس ہیں، جن میں ایک جانب ترکی، مصر اور اردن (اور اب متحدہ عرب امارات و دیگر) ہیں، جنھوں نے اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کیا ہوا ہے بلکہ اقتصادی تعلقات بھی ہیں۔ اور دوسری جانب شام، عراق، سعودی عرب، ایران و پاکستان وغیرہ آتے ہیں۔ شام اور عراق کی اسرائیل کے ساتھ براہ راست جنگیں ہوچکی ہیں۔
ایران بالواسطہ (حزب اللہ وغیرہ کو اسلحہ اور مالی معاونت فراہم کرتے ہوئے) اسرائیل کے ساتھ پنجہ آزمائی کر رہا ہے۔
سعودی عرب کی تو کوئی خاص فوجی حیثیت نہیں ہے اور دور پار کے دیگر اسلامی ممالک اور پاکستان کا کردار عموماً اقوامِ متحدہ میں اسرائیل مخالف بیان اور کچھ دیگر معاملات ہیں
ترکی اور اسرائیل کے تعلقات آج کے نہیں، مگر آج تک ترکی مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری نہیں رکوا سکا ہے۔ اور رہی بات مصر کی، تو اسرائیل کے لیے غزہ کا محاصرہ مصر کی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو عربوں اور ترکی کے تعلقات قائم ہونے کے بعد فلسطین کی پرانی حثیت ان کی آزادی اور ان کی زندگیوں پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑ رہا

لہذا کوئی صحافی ہو، پاکستانی نژاد مغرب نواز ہو، این جی او اور میڈیا وغیرہ ،لبرل۔ ملحد ، سیاسی ان تمام کی یہ کوشیش بے سود ثابت ہو گی جبکہ تک ناجائز ریاست ختم نہیں ہوتی اور فلسطین کی پرانی حثیت بحال نہیں کرتا تب تک یہ تمام کوششیں بے کار ہیں اور مجھے اتنا پتہ ہے کہ صہیونی ریاست یہ کبھی نہیں کرے گی

ابوموسیٰ#

Abu Moosa
Abu Moosahttp://abumoosaofficial.com
Since 2007, we are your trusted/credible source for unbiased and authentic: National and international news and updates, Well researched and evidence-based / indisputable articles, Finest defense line analyses, and Daily blogs. Our objective is to establish and promote true journalism through the presentation of an independent yet ideological viewpoint of the Pakistani
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular