Tuesday, November 29, 2022
HomeInternal Newsامریکی خط کا پوسٹ مارٹم رپورٹ!

امریکی خط کا پوسٹ مارٹم رپورٹ!

موجودہ حالات میں آپ کسی پی ٹی آئی فرقے سے پوچھیں کہ بھئی یہ خط والی کہانی کیا ہے؟
تو وہ جواب دے گا کہ خط امریکی گورنمنٹ نے خود لکھا ہے ہمارے وزیر اعظم کو اور دھمکی دی تھی!

دوبارہ پوچھیں بھائی خط کے اندر لکھا کیا تھا اور کیا خط وزیراعظم کے نام پر امریکی گورنمنٹ نے پوسٹ کیا تھا ؟
تو جواب ملے گا ہاں تو اور کیا آپ کو نہیں پتہ فلاں فلاں مگر اس سے آگے اگر کچھ بتائیں ہمیں ضرور بتائیئے گا
ان بےچارے اندھے سیاسی مقلدین فرقہ پی ٹی آئی کو جو انکا لیڈر بول دے، وہ ان سیاسی مقلدین (یوتھیئے، پٹواری، جیالے، زیبرے وغیرہ ) کے لئے وہ بات لفظ آخیر کا درجہ رکھتی ہے، یہ تحقیق کرنے کے عادی ہی نہیں، اور اکثر کم سن بچے ہیں!
اور پھر یہ سیاسی فرقوں کے مقلدین اندھا دھند اپنی نفرت کا رخ افواج پاکستان کی جانب کرتے ہیں!
اور یہ طریقہ کار پاکستان کے تمام سیاسی فرقوں کا ہے، بشمول فرقہ پی ٹی آئی کے، اصل میں یہ چاہتے ہیں کہ افواج پاکستان انکے لیڈروں کے سامنے پنجاب پولیس کی طرح بن کر رہے، یعنی انکے گھروں کی لونڈی، ان کی ہر ہاں میں ہاں ملائی جائے، جس کا اعتراف فرقہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان بھی کر چکے ہیں!
تو پھر سیاسی فرقہ پرستوں 27 فروری کو بھجوانا تھا نا اپنے کسی سورمے لیڈر کو اور ساتھ خود جانا تھا!
تو خیر یہ تو ہونے والا نہیں کبھی قیامت تک بھی،
ان شاءاللہ!
کیونکہ اگر ایسا ہو جائے تو ملکی سلامتی کا حال وہی ہوگا جو ہمارے ملک میں پولیس کی کارکردگی کے باعث لاء اینڈ آرڈر کا ہے، اور نتیجتاً ہمارے خون کے پیاسے بھارتی ہندو کل ہی پاکستان پر چڑھ دوڑیں گے!
خیر اصل بات کی طرف آتا ہوں یہ خط کیا تھا اور خان صاحب نے اس کو کیسے سیاسی انتشار پھیلانے کے لئے استعمال کیا ہے؟
یہ خط منٹس آف میٹنگ تھے یعنی امریکی آفیشل سٹیٹ سیکرٹری اور پاکستانی سفیر کے درمیان ہونے والی ملاقات کی بات چیت کا احوال بیان کیا گیا تھا، اور ان باتوں کا راوی امرکہ میں تعینات ہمارا پاکستانی سفیر ہے یعنی یہ منٹس اس نے خود لکھے
یہ امریکی آفیشل کی جانب سے نہیں بلکہ پاکستانی سفیر نے خود یہ مراسلہ لکھا کہ میٹنگ میں یہ یہ باتیں ہوئی ہیں!

جب روس یوکرائن پر حملہ کرنے جا رہا تھا تو امریکہ اور اسکے تمام اتحادی یعنی نیٹو وغیرہ غصے میں تھے جبکہ ترکی کو بھی یہ حملہ قبول نہیں تھا کیونکہ وہ بھی نیٹو کا رکن ملک ہے
اسی دوران خان صاحب کا دورہ روس ہونا تھا جو کہ پہلے سے طے شدہ تھا مگر پاکستانی سیکورٹی آفیشلز نے انہیں روکا کہ ابھی دورہ نا کریں!
کیونکہ روس کی جانب سے یوکرائن پر حملے کی تیاریاں مکمل ہیں، اور اگر ایسا ہوا تو یورپ اور امریکہ سے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں! لہذا احتیاط کریں
چونکہ ہماری تجارتی و معاشی منڈی ابھی تک یورپ اور امریکہ ہی ہیں، ناکہ روس ہے، اس لئے دورہ نا کیا جائے مگر عمران احمد خان نیازی کہاں سنتا ہے ؟
عسکری قیادت کو کہتا ہے کہ دورہ طے شدہ ہے اور وزیراعظم عمران احمد خان نیازی رحمتہ اللہ علیہ نکل پڑا تو اسی روزہ روس نے یوکرائن پر حملہ بھی کر دیا!

ہمارے فرقہ پی ٹی آئی والے تصاویر شیئر کر کے خوش ہوتے رہے کہ دیکھا کپتان نے کیسے جنگ لگوائی، دیکھو ہمارے وزیراعظم نے جنگ کا فیتا کاٹا، فلاں فلاں!
او بھئی دو کافر ملکوں کی جنگ ایک تمہارا پرانا دشمن اور ایک حالیہ ہے، تم مفادات دیکھو نا کہ چولیں مارو!

اگر فوج دفاعی نقطہ نظر سے قوم کا بھلا کرے تو غلط! اکڑوں خان گردن میں سریا رکھے تو درست؟ چاہے نئی دشمنی پڑ جائے راہ چلتے بلاوجہ!
اسے کیا اس نے تو پارلیمنٹ ہاؤس کی نکر یا پھر برطانیہ میں نکل جانا ہے، جہاں اس کی پہلی محبوبہ اور دونوں بچے ہیں، دہشت گردی کی آگ میں جلنا بیچاری غریب عوام نے ہے، جو کہ تاریخی ریکارڈ ہے!
خیر واپسی مدعے پر آتا ہوں!
اسی دورہ روس کی خبر امریکی گورنمنٹ کو بھی تھی تو انہوں نے پہلے ہی ہمارے سفیر کو طلب کر کے کہا! کہ اگر آپکا وزیر اعظم روس کا دورہ اس جنگی ماحول کے دوران کرتا ہے، تو یہ ہمیں قبول نہیں ہو گا!
اور اسکے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں اور آپ کے ملک کے لئے یہ نتائج اچھے نہیں ہونگے (یعنی دفاعی، معاشی اور دیگر پابندی وغیرہ وغیرہ جو امریکہ کرتا ہے ہر اپنے حریف کے ساتھ ) ایران و افغانستان وغیرہ اسکی نزدیکی مثالیں ہیں!

یہ ایک طویل میٹنگ تھی پاکستانی سفیر کے ساتھ ظاہری بات ہے امریکہ اور روس دونوں ممالک ایک دوسرے کے سخت حریف ہیں، اور کئی دہائیوں سے ان کے درمیان کولڈ وار چل رہی ہے، اور پاکستان کا اتحادی امریکہ ہے، آج بھی دفاعی اور معاشی امور پر نا کہ روس ہے!
ایسے میں جب ابھی پاکستان کے کوئی ایسے معاملات ہوئے ہی نہیں روس سے دفاعی و معاشی تو پھر ہمیں اس جنگ کا حصہ بننے کا فائدہ؟ جبکہ جنگ بھی دو کافر ملکوں کے مابین ہے!
روس تو آج بھی بھارت کی کھلے عام حمایت کرتا ہے، اسے دفاعی سازو سامان بیچتا ہے، اور بھارت دنیا میں ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اور کشمیر پر قابض بھی ہے!
سوچنے کی بات ہے بھئی کہ جب کسی ملک سے ایسے معاملات ہوں، جیسے آپ کے امریکہ کے ساتھ ہیں تو ایسی صورت حال میں ہمیشہ ہر ملک اپنے ملک میں موجود سفیر کو طلب کرتا ہے اور سخت بات ہی کرتا ہے!
کہ جناب اگر آپ کی حکومت نے ایسا کیا تو یہ ہو جائے گا ہم فلاں فلاں کر دینگے!
حتی کہ ایسے ہی ہمارے ملک میں بھی بہت بار دوسرے ممالک کے سفیروں کی طلبی کی جاتی رہی ہے، اور سیکورٹی امور پر سخت الفاظ کہے جاتے رہے ہیں، اور پھر وہ سفیر ان سب باتوں کو اپنی حکومت کو مراسلات میں لکھ کر سینڈ کر دیا کرتے ہیں!
یہاں اس خط میں بھی وہی معاملہ ہوا ہے!
مراسلہ منجانب پاکستانی سفیر وزیراعظم کو منٹس آف میٹنگ لکھ کر سینڈ کر دیئے گئے، اور اسی دوران بلکہ اس سارے معاملے سے قبل آپوزیشن کے کچھ فرقوں نے پی ٹی آئی کے لوگ خریدنے شروع کر دیئے تھے، تحریک عدم اعتماد کے لئے! اب خط جب آیا تو اسی وقت خان صاحب نے شور کیوں نہیں مچایا؟ بلکہ جب دیکھا کہ تحریک کامیاب ہونے جا رہی ہے اور کافی یار فروخت ہوچکے ہیں سیاسی منڈی میں
تو پھر اچانک خان نے یہ چال چل دی کہ یہ سب امریکہ کروا رہا ہے!
خان صیب نے اپنے ہی سفیر کا لکھا مراسلہ اٹھا اٹھا کہنا شروع کر دیا جلسوں میں، کہ مجھے امریکہ سے ایک دھمکی والا خط آیا ہے، اور اپوزیشن کو انہوں نے میرے پیچھے لگایا ہے وغیرہ وغیرہ اور فرقہ بنوں پی ٹی آئی کے سپورٹرز نے تفصیلات پوچھنے کی بے ادبی مول نا لی!
بھئی خان صیب مہذب رویہ اختیار کرو تم نے بھی تو کئی سال آپوزیشن بن کر اس وقت کی حکومت کو نتھ ڈالی رکھی تھی، اور چینی حکومت کے دورے کے وقت بھی تم نے دھرنا دئے رکھا تھا، اسلام آباد دھرنے میں جو کہ پارلیمنٹ کے سامنے کیا تھا آپ نے یاد ہے کہ نہیں؟
وہ جلاؤ گھیراؤ،وہ پی ٹی وی پر حملہ؟ بجلی بل جلاؤ مہم؟ بغاوت مہم، وغیرہ وغیرہ!
تو کیا اس وقت آپ نے بھی امریکہ سے پیسے لے رکھے تھے؟ پاکستان کو مشکلات میں مبتلا کرنے کیلئے؟
اب جب فرقہ بنو پی ٹی آئی کے وزیراعظم پاکستان نے شور مچانا شروع کر دیا کہ جناب مجھے امریکہ سے دھمکی آئی ہے ثبوت میرے پاس ہے تو اسی وقت پاکستان کی نیشنل سکیورٹی کونسل نے وزیراعظم سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا دھمکی ہے جو ہمیں بھی نہیں پتہ چلی اور بڑی خاموشی سے امریکہ نے آپ کو دی ہے؟
(ورنہ امریکہ تو جب کسی ملک کو دھمکی دیتا ہے بڑی کھل کر دیتا ہے چاہے دھمکی پر عمل کرے یا نا کرئے مگر ہوائی فائرنگ ضرور کرتا ہے)
تو خان صاحب نے وہ سفارتی مراسلہ دیکھایا اب نیشنل سکیورٹی کونسل نے اسے نارمل ہی لیا اور یہ طے ہوا کہ اس کا جواب مراسلہ ہی میں دیا جائے گا!
لحاظہ جوابی کارروائی میں جواب، جوابی مراسلہ ہی کی صورت میں دیا گیا تھا!
اور پھر امریکی گورنمنٹ کے آفیشل نے بھی اپنے ویڈیو بیان میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو کوئی دھمکی نہیں دی اس کہانی میں کوئی صداقت نہیں ہے!

یہ تھی اس خودساختہ سازشی نعرے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، جو مداخلت ثابت ہوئی، اور اصل سازش قوم و افواج پاکستان کیخلاف ثابت ہوئی!
جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر جب آکر موقف دیتا ہے!
تو قبیلہ بنوں پی ٹی آئی فرقہ کہتا ہے یہ جھوٹ ہے، دھوکہ ہے، غداری ہے، گالیاں، الزامات، بہتان تراشی، افواج مخالف ٹرینڈز اور بہت کچھ کرتا دکھائی دیتا ہے، لیکن ان پر قبیلہ بنوں پی ٹی آئی فرقہ کے سردار عمران طغرل غازی کے جادو کا ایسا اثر چڑھا ہے، کہ انکی نظر بندی ہوچکی ہے!
ان کی لڑائی کی آڑ میں سیکولر، لبرل، قادیانی، سرخہ برگیڈ، قوم پرست، راء، سی آئی اے، موساد، سابقہ این ڈی ایس، ایم آئی سکس وغیرہ کے لاکھوں اکاؤنٹس جو پہلے اسلام و وطن اور خصوصاً افواج پاکستان کیخلاف خفیہ پروپیگنڈا کرتے تھے، اب کھلے عام قبیلہ بنوں پی ٹی آئی فرقہ کا لبادہ اوڑھ کر دے دنادن کر رہے ہیں!

اب بس لڑائی اتنی ہے، کہ قبیلہ بنوں پی ٹی آئی فرقہ اور قبیلہ بنوں پی ڈی ایم فرقہ مکس فرقہ جات کے سفوف کے درمیان کرسی کو حاصل کرنے کیلئے نت نئے دجل اور فراڈ پھیلائے جاتے ہیں، اور ان فرقوں کے پرستار آپس میں گھتم گھتا تو کبھی بور ہونے کے بعد ملکر افواج پاکستان کیخلاف سرجیکل اسٹرائکس شروع کر دیتے ہیں، یہ کرسی کی نظریات کی لڑائی دس اپریل 2022ء کو باقاعدہ شروع ہوئی اور اللہ جانے یہ جنگ کب رکے گی؟
غالباً دونوں فرقوں کے پرستاروں کو جس دن عقل سلیم آگئی اس دن آپ ان سب کو زبردستی بھی لڑانا چاہیں تو نہیں لڑیں گے، کیونکہ ان سب کو اپنی جان پیاری ہے، بس فرقوں کے پرستار ووٹرز ان کیلئے جانیں دیں، ان کو سپورٹ کریں، تو جب تک ان کی نسلیں چلتی رہیں گی، ان کی یہ جنگ ختم نہیں ہوگی، ہوسکتا دنیا ہی ختم ہو جائے لیکن یہ باز نہیں آنے والے، واحد حل ہے کہ ان سیاسی فرقوں کے لوگ اللہ سے سچے دل سے توبہ کریں، دو رکعت نفل ادا کریں، اور ھدایت صراط مستقیم مانگیں، اور عقل سلیم و قلب سلیم مانگیں، ان کو سپورٹ بند کر دیں!
پھر دیکھتا ہوں اکیلے نواز، اکیلے شہباز، اکیلے زرداری، اکیلے مولانا، وغیرہ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے، اور کس طرح ملک توڑنے کی باتیں کرتے ہیں؟ اور کیسے فوج کو بلیک میل کرتے ہیں، یا گالی دیتے ہیں؟ یا کیسے چپڑاسی کی بھی نوکری حاصل کرتے ہیں؟ پورا مکمل گہرائی سے سوچیں!

Abu Moosa
Abu Moosahttp://abumoosaofficial.com
Since 2007, we are your trusted/credible source for unbiased and authentic: National and international news and updates, Well researched and evidence-based / indisputable articles, Finest defense line analyses, and Daily blogs. Our objective is to establish and promote true journalism through the presentation of an independent yet ideological viewpoint of the Pakistani
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular