Monday, January 30, 2023
HomeGlobal Newsمودی قاتل دستاویزی فلم میں ہوشربا انکشافات

مودی قاتل دستاویزی فلم میں ہوشربا انکشافات

مودی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کیلئے براہ راست ذمہ دار ہیں ، بی بی سی کی دستاویزی فلم میں ہوشربا انکشافات

لندن : 20 جنوری 2023ء

برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) کی ایک دستاویزی فلم منظرعام پر آئی ہے جس میں بھارت میں فرقہ وارانہ تشدد میں وزیراعظم نریندر مودی کے کردار کے بارے میں تحقیق پیش کی گئی ہے۔ فلم بھی کھل کر اس بات کا اظہار کیا گیا ہے کہ نریندر مودی گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کیلئے براہ راست ذمہ دار ہیں۔
خبررساں ادارے کے مطابق ”انڈیا : دی مودی کوسچن کے عنوان سے جاری دستاویزی فلم میں گجرات فسادات کو مسلمانوں کی نسل کشیُ کا نام دیا گیا ہے ۔ یہ دستاویزی فلم 2002ء کی حکومت برطانیہ کی طرف سے قائم کی گئی ایک خفیہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹس پر مبنی ہے ۔ یہ رپورٹس پہلے کبھی منظر عام پر نہیں آئیں اور نہ ہی انہیں اب تک کہیں شائع یا ظاہر کیا گیا ہے۔ ان رپورٹس میں رونگٹے کھڑے کر دینے والی تفصیلات موجود ہیں جو گجرات کے مسلمانوں کے قتل عام اور اس قتل عام میں نریندر مودی کے کردار سے متعلق ہیں۔ یہ رپورٹس ایسے تمام سلسلہ وار واقعات کا حوالہ دیتی ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تشدد ایک منصوبہ بند مہم کے تحت کیا گیا اور یہ اپنے پیچھے مسلمانوں کی نسل کشیُ کے تمام نشانات چھوڑ گیا اور اسکے لیے صرف اور صرف مودی ذمہ دار ہیں ۔
دستاویزی فلم میں برطانیہ کے سابق وزیر خارجہ جیک اسٹرا (2001ء تا 2006ء) کا یہ بیان بھی موجود ہے کہ ”ہم نے ایک تحقیقاتی ٹیم کو گجرات بھیجا جس نے بہت اچھے طریقے سے اپنا کام کیا اور تحقیقات کے بعد اس نے جو رپورٹ پیش کی وہ مکمل اور بھر پور تھی ، اس رپورٹ میں کہا گیا کہ تشدد کی حد اطلاعات سے کہیں بڑھ کر تھی اور مسلم خواتین کے ساتھ بڑے پیمانے پر اور منظم طریقے سے بھیانک اور خوفناک زیادتی کی گئی ، یہ تشدد سیاسی محرکات پر مبنی تھا۔ رپورٹ میں مزید کیا گیا کہ فسادات کا مقصد ہندو علاقوں سے مسلمانوں کا صفایا کرنا تھا۔ دستاویزی فلم میں ایک سابق برطانوی سفارت کار نے جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا ، کہا کہ تشدد کے دوران کم از کم دو ہزار افراد کا قتل کیا گیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی ، انہوںنے کہا کہ ہم اسے قتل عام قرار دیتے ہیں جو دانستہ اور سیاسی محرکات پر مبنی تھا اور جس میں برسرعام مسلم کمیونٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ سابق سفارتکار نے بتایا کہ یہ تشدد ایک انتہاپسند ہندو قوم پرست گروپ وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے برپا کیا ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ وی ایچ پی ، اسکے اتحادی ، ریاستی حکومت کی طرف سے ملی چھوٹ کے بغیر اتنا خوفناک تشدد برپا نہیں کر سکتے تھے۔یاد رہے کہ گجرات میں 2002ء میں مسلم کش فسادات میں ہزاروں مسلمان قتل کیے گئے ۔ نریندر مودی اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے۔

Abu Moosa
Abu Moosahttp://abumoosaofficial.com
Since 2007, we are your trusted/credible source for unbiased and authentic: National and international news and updates, Well researched and evidence-based / indisputable articles, Finest defense line analyses, and Daily blogs. Our objective is to establish and promote true journalism through the presentation of an independent yet ideological viewpoint of the Pakistani
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular

Recent Comments