Tuesday, November 29, 2022
HomeInvestigative Columnsکیا ہم انگریز کے غلام ہیں؟

کیا ہم انگریز کے غلام ہیں؟

اکثر دشمن سے متاثر مسلمانوں میں ایک طبقہ طنز اور سوال کرتا ہے کہ مسلمانوں نے کیا ترقی کی ہر چیز میں تو انگریز کے غلام ہیں اُن لوگوں کے سوالوں کے جواب

گزشتہ ایک سو پچاس سال سے جب سے مسلمانوں کی سب سے بڑی حکومت یعنی سلطنت عثمانیہ ختم ہوئی ہے مسلمانوں کی طاقت کمزور بلکہ ختم کر دی گئی ہے مسلمانوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے تقسیم در تقسیم کے فارمولے پر آٹو ڈال دیا گیا ہے
کوئی بھی مسلمان ملک دفاعی طور پر ہتھیار نہیں بنا سکتا اور نہ ہی خود کو دفاعی طور مضبوط کر سکتا یعنی ہر حال میں دشمن کے رحم وکرم پر ہو گا
اس وقت ساری دنیا کی معیشیت اسلام دشمن کے ہاتھ میں ہے کوئی بھی مسلم ملک دفاعی اور معاشی طور پر مضبوط نہیں ہو سکتا
مسلمانوں کو بنیادی مسائل میں الجھا دیا گیا پیٹ کی آگ ،آپس کے جھگڑوں، سیاست، قوم پرستی ، فرقہ پرستی کے چکر میں لگا دیا گیا اور یرغمال بنا کر بلیک میل کیا جارہا ہے تاکہ کوئی مسلمان ملک ترقی نہ کر سکے
کیونکہ تمام ملٹی نیشنل کمپنیاں کاروبار کرتی ہیں تمام مصنوعات تمام اشیاء انہی اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ میں ہے
مسلمان ملک اپنی کوئی مصنوعات اشیاءوغیرہ نہیں بنا سکتے کیونکہ یا تو قرضہ معاشی کمزوری یا پھر پابندیاں عائد ہیں

جو بھی مسلمان ملک ان کی بات نہیں مانے گا اسے تباہ کر دیا گیا عراق، شام، لیبیا وغیرہ کی مثال آپ کے سامنے ہے

ورنہ اس سے پہلے تو مسلمان ہر شعبے میں آگے آگے تھے لیکن اس یہ 150 سالہ تاریخ سب سے الگ ہی ہے
کیونکہ جب سے دنیا بنی ہے کوئی کہتا ہے پانچ ہزار سال کوئی دس ہزار سال تو کوئی پچاس ہزار سال کا حوالہ دیتا ہے البتہ کنفرم کوئی نہیں کہہ سکتا کہ دنیا شروع کب ہوئی ہے یہ راز صرف اور صرف اللہ پاک کو پتہ ہے
اب آتے ہیں جب سے دنیا بنی ہے چاہے جتنے بھی سال ہوگئے ہیں آج سے ایک سو پچاس سال پہلے تک پوری دنیا ایک جیسے زندگی گزارتی تھیں مطلب جو آج تک جدید سائنسی ٹیکنالوجی کی جدت ہے یہ دنیا کی تاریخ میں موجود نہیں تھی۔یہ ساری کارروائی ان ایک سو پچاس سالوں میں ہوئی ہے یعنی ١٨٨٠ کے بعد سے کہہ سکتے ہیں

اسلام ہمیں کیا بتاتا ہے کہ ایک وقت آئے گا دجال ہو گا اس کی ایک آنکھ ہوگی آج ای میل انٹرنیٹ کمپیوٹر کیمرا سی سی ٹی وی کیمرہ سیٹلائٹ کی بھی ایک انکھ ہے۔اور پوری جدید جدت سائنس ٹیکنالوجی سیٹلائٹ سے شروع ہوئی ہے؟
دجال کی سواری کے بارے میں کہا گیا اگر آج کے جدید زمانے سے موازنہ کریں تو جدید فضائی طیارے ہیں میزائل دفاعی نظام ہو سکتا
پھر کہا گیا موسم پر کنٹرول ہو گا آج مصنوعی بارش بھی برسائی جارہی اناج غلہ بھی جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مصنوعی طریقے سے نکالا جا رہا

دجال کے ہاتھ میں خزانے ہو گے دجال اعلان کرے گا جو میرا ساتھ دے گا وہ خزانوں میں کھیلے گا۔باقاعدہ جنت دکھائی جائے گی تب دجال کا کہنا ماننے والوں کے حالات بڑے اچھے ہو جائیں گے پیسے کی ریل پیل ہو گی
بظاہر تو یہ جنت بڑی خوش نما نظر آئے گی لیکن اس کے اندر حقیقی آگ ہو گی

اسی طرح نہ ماننے والوں کا انجام آگ میں ڈالنا ہوگا بظاہر تو یہ لگ رہا ہوگا کہ یہ جل جائیں گے یہ مر جائیں گے بھوک سے مر جائیں گے کھانے کو ان کے پاس کچھ نہیں ہوگا یہ تباہ ہو جائیں گے پابندیاں لگ جائیں گی وغیرہ وغیرہ۔

حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی صحیحین کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دجال کے بارے میں فرمایا : اس کے ساتھ آگ اور پانی ہوگا، لیکن حقیقت میں اس کی آگ ٹھنڈا پانی ہے، اوراس کا پانی آگ ہے (صحیح بخاری ۷۱۳۰ و صحیح مسلم ۲۹۳۴ و ۲۹۳۵ ) ۔
اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ وہ دائیں آنکھ کا کانا ہے ، اوراس کی آنکھ گویا پھولے ہوئے انگورکی طرح ہے ، یا اندھی بغیرروشنی کے ہے ۔(صحیح بخاری ۷۱۳۰، صحیح مسلم ۱۶۹ و کتاب الفتن ۱۰۰) دجال کے بارے میں مزید معلومات صحیح احادیث کی روشنی میں آپ اِس ویبسائٹ سے پڑھ سکتے ہیں
جیسے ذرائع ابلاغ کے ذریعے پاکستان پر معاشی پابندیاں لگانے کے بعد دشمن تباہی کے بارے میں اعلانات کر رہے۔شور و غل برپا کر رکھا ہے اصابی نفسیاتی جنگ مسلط کر رکھی ہے

اسی طرح اور بہت ساری نشانیاں موجود ہیں
اس 150سالہ تاریخ میں کچھ خاص الگ ہی معاملات چل رہے ہیں دجال آچکا ہے یا دجال کی تیاریاں ہے جھوٹ کا زمانہ ہوگا فتنے عام ہو گے جبکہ بے حیائی عام ہو گئی افراتفری کا ماحول ہو گا۔
اس وقت عجیب سی افراتفری پیدا ہوچکی ہے ہر کسی کو اپنی اپنی لگ گئی ہے خونریزی عام ہو رہی ہے
مکہ مدینہ ویران ہونے کی بھی پیشن گوئیاں ہیں
زندگی موت کا مالک اللہ ہے لیکن یہاں دجال کے پجاری کچھ اس طرح کے معاملات چلا رہے ہیں کہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ فلاں چیز ماردے گی فلاں ٹیکہ مار دے گا فلاں کی بات نہ مانی تو مار دے گا۔ڈالر نہ ہوا تو ہم بھوکے مر جائیں گے۔!

دجال کو خدا ماننے کی ٹریننگ کرائی جارہی ہے۔توبہ نعوذ باللہ
اور تمام بڑے مذاہب کی طرف دیکھیں تو یہودیوں کے مذہب کے مطابق بالکل دجال کے آنے کا وقت ہو چکا ہے یہودی تیاریاں مکمل کر چکے ہیں
اسی طرح مسلمانوں کے اسلام کی تعلیمات کی طرف دیکھیں تو بالکل آج دجالی وقت ہے۔
پاک فوج غزوہ ہند لڑے گی اور پھر یہاں سے فارغ ہوکر جیش امام مہدی کے لشکر میں شامل ہو گی۔
شام تباہ ہوگیا پیشن گوئیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جب شام تباہ ہو جائے گا تو دنیا میں خیر ختم ہو جائے گی عیسائی صلیبی۔ مذہب کے تحت بھی تیاریاں مکمل ہیں۔

بھارت بھی اپنی مذہبی تعلیمات کے مطابق تیاریاں کر رہا ہے۔

اے مسلمانو بات دنیا کی نہیں ہے بات آخرت کی بھی ہے عظیم جنگ شروع ہوچکی ہے پاک فوج کا مقابلہ جھوٹے دجال کے شیطانی لشکر سے جاری ہے۔

رحمان والا ہی وہ عظیم لشکر ہے جس کے بارے میں میرے آپ کے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے پیشنگوئیاں خوشخبری سنائی تھی۔

اس وقت خود کو مضبوط رکھیں ایمانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر مضبوط رہیں
خود کو اپنے بچوں کو اپنے دماغوں کو فتنوں سے بچا کر رکھے
اور مسلمانوں کی عظیم فورسز پاک فوج کے ساتھ جڑ جائے
جس کے لئے ثبوت دینے کی ضرورت نہیں سورج کی روشنی کی طرح صاف صاف نظر آ رہا ہیں۔۔۔

پاکستان تاقیامت زندہ باد

پاک فوج جیش امام المہدی

Abu Moosa
Abu Moosahttp://abumoosaofficial.com
Since 2007, we are your trusted/credible source for unbiased and authentic: National and international news and updates, Well researched and evidence-based / indisputable articles, Finest defense line analyses, and Daily blogs. Our objective is to establish and promote true journalism through the presentation of an independent yet ideological viewpoint of the Pakistani
RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Most Popular